Aaj Pakistan | iGreen
نوٹ: کچھ جگہ میں اسلامی واقعات کی صحیح تاریخ مختلف اسلامی مؤرخین اور علماءکرام کی اختلافات کی وجہ سے نہیں دی جارہی۔
واقعات جمادی الاول

2 جمادی الاول 726 ھ

برسہ کی فتح
  • 6 اپريل 1326

خان بن عثمان خان کے ہاتھوں برسہ فتح ہو گیا۔یہاں تعینات رومی فوج پسپا ہو گئی اور اسلامی لشکر شہر میں داخل ہو گیا اورخان نے اہل شہر سے کوئی تعرض نہ کیااور انھوں نے جزیے کی ادائیگی پر صلح کر لی،پھر عثمان نے انتقال کیا۔

4 جمادی الاول 945 ھ

معرکہ پریویزا
  • 28 ستمبر 1538

تاریخ اسلام کی بحری جنگوں میں سے معرکہ بڑا نمایاں واقعہ ہےجو945ھ/1538ءمیں پیش آیا۔جس میں300 بحری جہاز شامل تھے۔اس صدی کا مشہور ترین یورپی بحری کمانڈر اینڈریا ڈور یا اس بیڑے کی کمان کر رہا تھا۔ادھر عثمانی بحری بیڑا 120 جہازوں پر مشتمل تھاجس کی قیادت امیرالبحرخیرالدین بار بروسا کے پاس تھی۔دونوں بحری بیڑوں میں 4جمادیالاولی 945ھ /28 ستمبر1538ءکو پریویزا کے مدمقابل جنگ ہوئی جس میں خیرالدین بار بروساکے بحری بیڑے نے صلیبی بیڑے کو شکست فاش دی۔

15 جمادی الاول 15 ھ

مسلمانوں کی فوج
  • 25 جون 636

مسلمانوں کی فوجیں حمص سے انخلا کے بعد اذرعات(جنوبی شام)میں اتریں۔

15 جمادی الاول 20 ھ

معرکہ عین شمس
  • 30 اپريل 641

معرکہ عین شمس15جمادی الاولی20ھ/30اپریل641ءکو پیش آیا۔اس جنگ سے فارغ ہو کر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ام دنین پر قبضہ مستحکم کیا اور وہاں سے مزید دریائی کشتیاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں۔

15 جمادی الاول 974 ھ

سلطان سلیم ثانی (تخت سلطنت)
  • 30 ستمبر 1566

سلیم ثانی خلیفہ سلیمان بن سلیم اول کا بیٹا تھا۔وہ دولت عثمانیہ کے سلاطین میں سے گیارہواں سلطان اور عثمانی خلفاء میں سے تیسرا خلیفہ تھا۔ سلیم ثانی اپنے والد خلیفہ سلیمان اول کی وفات کے تقریبا 23 دن بعد تخت سلطنت پر رونق افروز ہوا۔اس دن تاریخ 15جمادی الاولی974ھ/30ستمبر1566ء تھی۔

20 جمادی الاول 857 ھ

قسطنطنیہ کی عظیم الشان فتح
  • 29 مئ 1453

قسطنطنیہ330ءسے395ءتک رومی سلطنت اور 395ء سے1453ءتک بازنطینی سلطنت کا دارلحکومت رہا اور 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ کا دارالخلافہ رہا۔فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اس شہر کا نام اسلم بول رکھا جو کہ آہستہ آہستہ استنبول میں تبدیل ہو گیا شہر یورپ اور ایشیا کے سنگم پر شاخ زریں اور بحیرہ مرمرہ کے کنارے واقع ہے اور قرون وسطی میں یورپ کا سب سے بڑا اور امیر ترین شہر تھا اس زمانے میں قسطنطنیہ کو شہر کی ملکہ کہا جاتا تھا۔

27 جمادی الاول 13 ھ

شام کی فتوحات
  • 30 جولائ 634

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلامی عسا کر اجنادین کے مقام پر جمع کیے اور ان کے عرب حلیفوں کو شکست دی۔

27 جمادی الاول 13 ھ

رومیوں کو شکست
  • 29 جولائ 634

یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہ کے لشکر اجنادین میں اکٹھے ہو گئے۔اس اثناء میں رومی سپہ سالار وردان کا لشکر بھی اجنادین آپہنچا اور پھر یہیں سر زمین شام کا پہلا بڑا معرکہ پیش آیا۔خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 33ہزارکے اسلامی لشکر نے ایک لاکھ سے زیادہ رومیوں کو شکست دی۔

27 جمادی الاول 13 ھ

معرکہ اجنادین
  • 29 جولائ 634

رومیوں نے مسلمانوں کے میمنہ پر دھاوا بول کر لڑائی کا آ غاز کیا۔مسلمان ثابت قدم رہے تو مسیحی پلٹ گئے،پھر انھوں نے اسلامی میسرہ پر دبائو ڈالا تو وہ بھی ڈٹے رہے اور رومیوں کو پھر ناکام ہو کر پیچھے ہٹنا پڑا،پھر انھوں نے مسلمنوں پر شدید تیر اندازی شروع کر دی تو حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے دشمن کے تمام لشکر پر ہلہ بول دیا۔رومی اس حملے کی تاب نہ لا کر شکست کھاگئےاور کئی گروپوں میں بٹ کر بیت المقدس ،قیساریہ،دمشق ,حمص کی طرف بھاگ نکلے۔

27 جمادی الاول 13 ھ

خالد بن ولید رضی اللہ ءنہ کی فتح
  • 29 جولائ 634

اجنادین(فلسطین)میں خالد بن ولید رضی اللہ ءنہ نے وردان کے مقابلے میں فتح حاصل کی۔