Aaj Pakistan | iGreen
نوٹ: کچھ جگہ میں اسلامی واقعات کی صحیح تاریخ مختلف اسلامی مؤرخین اور علماءکرام کی اختلافات کی وجہ سے نہیں دی جارہی۔
واقعات رجب

4 رجب 12 ھ

انبار کی فتح
  • 14 ستمبر 633

عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے پاس مناسب فوجی قوت نہ تھی۔پھر انھوں نے خالد رضی اللہ عنہ سے مدد مانگی۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کی مدد کو جانے کا فیصلہ کیا مگر اس سے پہلے انھوں نے شمال کے ایرانی قلعوں کا صفایا کرنے پر توجہ دی جن میں اہم ترین حصن انبار تھا۔خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پیش قدمی کی اور دبلے اونٹوں کو ذبح کرا کے خندق میں ڈلوادیا اور مسلمانوں نے ہلہ بولا تو ایرانی سپہ سالار شیر زاد نے اس شرط پر قلعہ مسلمانوں کے حوالے کردیا کہ اسےپرامن طور پر لشکر سمیت انخلا کی اجازت دی جائے۔

5 رجب 15 ھ

یرموک کی فتح
  • 13 اگست 636

یرموک میں مسلمانوں کے میمنہ کی کمان عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔جنگ میں پہلا ٹکراو انھی کے ساتھ ہوا،چناچہ ان کے ساتھی بکھر گئے اور وہ اکیلے خاصی دیر رومیوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہے یہں تک کہ ان کے ساتھی ان کی طرف پلٹ آئے۔جنگ میں رومیوں کو بھاری شکست سے دو چار ہونا پڑا۔یرموک کی فتح کے بعد شام کو چار سپہ سالاروں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

5 رجب 15 ھ

یرموک کا فیصلہ کن معرکہ
  • 12 اگست 636

ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مصلحت کے تحت حمص سے دمشق کی طرف لوٹ آئے۔ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سپہ سالاری خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔جنگ یرموک میں رومیوں نے شکست کھائی اور واقوصہ کے قریب مفرور مسیحی مسلمانوں کے دباوُ کی تاب نہ لا کر یرموک کے بلند کنارے سے نشیب میں ڈھیر ہوتے چلے گئے۔

5 رجب 15 ھ

رومیوں کی یلغار اورمسلمانوں کی فتح
  • 13 اگست 636

ہرقل نے اپنے عہد کا سب سے بڑا لشکر جمع کر لیا تھا۔وہ مختلف اقوام پر مشتمل مسلمانوں پر دھاوا بولنا چاہتا تھا۔ادھررومی لشکرحمص کو پیچھے چھوڑ کر بعلبک آ پہنچا۔مسلمانوں نے دمشق سے جنوب کو پیش قدمی کیااور جابیہ کے مقام پر عمروبن عاص رضی اللہ عنہ بھی اپنے لشکر سمیت ان سے آن ملے۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ لشکر کی کمان ان کے سپرد کر دی جائےتوانھوں نے قیادت خالد رضی اللہ عنہ کو سونپ دی۔انھوں نےرومیوں کے لشکرعظیم کو شکست دی۔اس کے بعد رومیوں کےقدم شام میں نہ جم سکےاور وہ مسلمانوں سے شکست کھاتے چلے گئے۔

10 رجب 236 ھ

وفات
  • 18 جنوری 851

10رجب236ھ/18جنوری 851ء کو محمد بن عبداللہ بن اغلب کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ مسلمانوں نے عباس بن فضل کو اپنا حکمران بنالیا۔

11 رجب 12 ھ

عین التمرپر قبضہ
  • 21 ستمبر 633

عقہ بن ابی عقہ نے غیر مسلم عربوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کا راستہ روکا مگر مسلمانوں نے زوردار حملے سے ایرانیوں کی کمر توڑ دی۔عقہ کی فوج بھاگ نکلی۔یہ دیکھ کرمہران اپنے لشکر سمیت دریائے فرات پار کر کے شمال کی طرف چلا گیا۔ حضرت خالد نے آگے بڑھ کر عین التمر پر قبضہ کر لیا ۔

15 رجب 14 ھ

سقوط دمشق
  • 3 ستمبر 635

محاصرہ دمشق کے دوران میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شہر کے مشرق میں تھے،عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور شرجیل رضی اللہ عنہ شمال میں،ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مغرب میں اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ جنوب میں تھے۔انہوں نے جب محاصرہ سخت کر دیا تو رومی لشکرکے قائد نسطاس بن نسورس نے ابو عبیدہ سے صلح کی درخواست کی۔رومی گورنر نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے امان طلب کی اور ادھر نسطاس کے نو مولود بیٹے کے جشن کی وجہ سے لشکر غفلت میں پڑ گیا جس سے خالد رضی اللہ عنہ کو مشرقی دروازہ بزور فتح کرنے کا موقع مل گیا۔ادھر مغربی دروازے کے رومیوں نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے سامنےہتھیار ڈال دئے۔

15 رجب 14 ھ

دمشق کی فتح
  • 5 ستمبر 635

رومیوں پر فتح یابی کے بعدمسلمان دمشق لوٹ آئے اور محاصرہ پھر شروع ہو گیا۔پھر دمشق کے دروازے مسلمانوں پر کھل گئے اور شہر فتح ہو گیا۔اور اس وقت سردیاں شروع ہو گئی تھیں جو مسلمانوں نے دمشق میں ہی گزاریں۔

15 رجب 14 ھ

مصر کی فتح
  • 4 ستمبر 635

بیسان کی فتح کے بعد مسلمانوں نے ایک بار پھر دمشق کا محاصرہ کر لیا۔آخر کار ساڑھے سات ماہ کے محاصرے کے بعد دمشق فتح ہو گیا۔

24 رجب 12 ھ

دومتہ الجندول کی فتح
  • 4 اکتوبر 633

عیاض رضی اللہ عنہ دومتہ الجندول فتح نہیں کر سکے تھے۔یہاں قبائلی کلب ،بہراء،ضجاعم، عسان اور تنوخ نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عین التمر سے عیاض کی مدد کو پہنچےاور دومتہ الجندول فتح ہو گیا۔

24 رجب 610 ھ

اسلام میں لیلة القدر کی روایتی تاریخ کے محمد قرآن وصول کرنا شروع کر دیا جب

ہم نے اس( قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا ﴿۱﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ ﴿۲﴾ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ﴿۳﴾ اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں ﴿۴﴾ یہ( رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے ﴿۵﴾

25 رجب 922 ھ

معرکہ مرج دابق
  • 24 اگست 1516

سلطنت عثانیہ اور دولت ممالک کے مابین تعلقات بڑے خوشگوار تھے،بہم تحائف کا تبادلہ ہوتا تھا اور عسکری فتوحات پر مبارکبادارسال کی جاتی تھی،پھر وہ وقت آیا کہ ان کے مابین نفرت،عناد اور تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے حتی کے دونوں میں فوجی تصادم تک نوبت آن پہنچی۔حلب کے شمال میں مرج دابق میں عثمانیوں نے مملوک لشکر کو تباہ کن شکست دی جس میں سلطان غوری ماراگیا۔