گھریلو اور کمرشل جائیدادیں 12سے  15 لاکھ مرلہ مہنگی، پراپرٹی کاروبار ٹھپ

بزنس
3 مہینے پہلے
Image

 اسلام آباد:  ایف بی آرکی جانب سے گھریلو اورکمرشل جائیدادوں پرنئے ٹیکس سے رہائشگاہیں پانچ سے بارہ جب کہ کمرشل تین لاکھ سے 15 لاکھ فی مرلہ مزید مہنگے ہوگئیں۔

رئیل اسٹیٹ کا کاروبار مزیدٹھپ ہوکر رہ گیا، ایل ڈی اے اوربورڈ آف ریونیو نے یکم جنوری تک دائررجسٹریوں پر بھی نیا ٹیکس عائد کردیا، رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں نے ٹیکس کو مسترد کرتے  ہوئے احتجاج کرنیکافیصلہ کرلیا، وثیقہ نویس بھی پریشان ہو گئے، وفاقی حکومت کی جانب سے منی بجٹ کے اعلان کے بعد ایف بی آر کی جانب سے جائیداد کی قیمتوں میں عائدٹیکس کے باعث گھریلو اورکمرشل پراپرٹیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ،نجی ہاؤسنگ سکیموں اوررئیل سٹیٹ کا کاروبار جو نئی حکومت میں شدید متاثر ہوا ہے مزید ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں رجسٹری برانچوں کا مطلوبہ ٹارگٹ آدھے سے بھی کم ہوکر رہ گیا۔

مزید ٹیکس عائد ہونے سے اس میں مزید کمی آئیگی۔’’ ایکسپریس‘‘ نے ایف بی آر کی جانب سے جائیداد پر نئے ٹیکس عائدکرنے سے مختلف علاقوں میں رہائشی وکمرشل جائیدادوں کی سابقہ اورموجودہ قیمتوں کا تعین کیا تو پتہ چلا کہ شہربھر میں رہائشی اورکمرشل پراپرٹیز میں چار سے 18 لاکھ روپے فی مرلہ اضافہ ہوگیا، نیو انارکلی بازارکی پرانی قمیت1931930فی مرلہ تھی جو اب2318316 روپے ہوگئی ہے، پر انی انارکلی میں کمرشل زمین میں دولاکھ فی مرلہ سے زائد اضافہ ہوا ہے، عزیز بھٹی ٹاؤن الفیصل ٹاؤن کے رہائشیں تین لاکھ سولہ ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ79ہزار فی مرلہ جبکہ کمرشل تین لاکھ روپے بڑھیں، برج کالونی رہائشی ایک لاکھ سولہ ہزار فی مرلہ بڑھی ہے جبکہ کمرشل سوادولاکھ سے زائد، مال روڈ 41لاکھ20ہزار سے بڑھ کر49لاکھ44ہزارفی مرلہ ہوگئی۔