9ویں این ایف سی کا پہلا اجلاس؛ وفاق اور صوبوں میں نئے فارمولے پر اختلافات کا انکشاف

بزنس
ایک ہفتہ پہلے
Image

 اسلام آباد: قومی محاصل کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولاطے کرنے کیلیے قائم نویں قومی مالیاتی کمیشن کے پہلے اجلاس میں وفاق اورصوبوں کے درمیان این ایف سی کے نئے فارمولے پراختلافات کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں زیر غور لانے کے لئے مختلف امور کی فہرست مرتب کرلی گئی ہے۔ نویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلاس گذشتہ روز(بدھ) یہاں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء خزانہ،سیکرٹریز خزانہ اور صوبائی پرائیوٹ ممبران سمیت دیگر وفاقی و صوبائی ممبران این ایف سی شریک ہوئے۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ عارف خان نے مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ صوبوں کی جانب سے بھی اپنے اپنے صوبے کی مالیاتی صورتحال کے بارے میں تفصیلی برفنگ دی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اجلاس میں مختلف امور پر 6 ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے جن میں سے کچھ کی سربراہی صوبے جبکہ ایک گروپ کی سربراہی وفاق کریگا جبکہ یہ فیصلہ بھی کیاگیا ہے کہ این ایف سی کا اگلا اجلاس چھ ہفتے بعد لاہور میں ہوگا جبکہ بعد ازاں کمیشن کے اجلاس دوسرے صوبوں کے دارالحکومتوں میں بھی منعقد کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاق میں این ایف سی سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ اجلاس میں ملک کی ترقی اورعوامی فلاح و بہبودکے لیے وفاق اور صوبوںکے وسائل بڑھانے کی ضرورت پر زرو دیاگیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ این ایف سی اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی کے نئے فارمولے پر اختلافات سامنے آئے ہیں اور اجلاس میں صوبوں نے اشیا پر سیلز ٹیکس وصولی کا اختیار مانگ لیا ہے جبکہ فاٹا کو تین فیصد حصہ دینے کے فیصلے کی بھی مخالفت کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونیوالے اجلاس میں نئے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مذاکرات شروع کیے گئے، اجلاس م یں صوبوں نے خدمات کے بعد وفاق سے اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کا اختیار بھی مانگ لیا ہے۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی سے سندھ کو 104 ارب روپے کم فراہم کیے گئے، فاٹاکا سارا بوجھ صوبوں پر نہیں ڈالاجا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اجلاس میں تمام اہم ایشوز اٹھائے ہیں اوروفاقی وزیرخزانہ نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ فاٹا وفاق کی ذمہ داری ہے جبکہ فاٹاکے پی کے میں ضم ہوچکا ہے، کے پی کے اور وفاق کوہی اس کو ڈیل کرنا پڑیگا۔ انھوں نے مزیدکہا کہ فاٹا کے سلسلے میں صوبوں سے مزید وسائل کی توقع نہیں کرنی چاہئیے۔

اجلاس میں قائم کردہ ورکنگ گروپس بارے مراد علیشاہ کا کہنا تھاکہ ایک گروپ فاٹا، ایک کاروباری ماحول بہتر بنانے ایک صوبوں کو وسائل کی براہ راست منتقلی پر بنایا گیا ہے جبکہ عمودی اور افقی تقسیم پر بھی دوگروپس بنے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھاکہ صوبوںکوآئی ایم ایف سے مذاکرات میں شامل کیا جائیگا جب تک ٹیکس آمدن نہیں بڑھتی وفاق اورصوبوںکا حصہ نہیں بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق این ایف سی اجلاس میں وزیر خزانہ نے اٹھارویں ترمیم پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ18ویں ترمیم کو تسلیم کرتے ہیں۔ ا ٹھارویں ترمیم میں صوبوں اور این ایف سی کی درست سمت میں قدم ہے اوراٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی میں صوبوںکے حصے کی آئبنی گارنٹی ہے اس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبوں نے ایف بی آرکی کارکردگی پرتحفظات کا اظہارکیا اورایف بی آر پالیسی میں اپنا اختیار مانگ لیا۔ این ایف سی اجلاس میں وفاقی آمدن کی تقسیم کے لیے چھ سب گروپس قائم کردیئے ہیں، این ایف سی کا اگلااجلاس چھ ہفتے بعدلاہور میں ہوگا، اجلاس ہرصوبے میں منعقد ہوںگے۔ اجلاس میں ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے وفاق اور صوبوں کے وسائل بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فاٹا کے امورسے متعلق تجاویزتیارکرنے کے لئے چھ ذیلی گروپ تشکیل دیدیئے گئے ہیں یہ گروپ فاٹا کے امور، کاروبار کو آسان بنانے، بڑے معاشی معاملات اور وسائل کی افقی اورعمودی تقسیم کے حوالے سے تجاویز پیش کریںگے، اجلاس میں نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت قومی وسائل کی بہتر انداز میں تقسیم کے حوالے سے سفارشات کا جائزہ لیاگیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ و این ایف سی میں پنجاب کے نمائندے ڈاکٹر سلمان شاہ نے بتایاکہ اجلاس میں میں ملک کے اخراجات اور امدن پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔آنے والے سالوں میں ریونیو میں اضافے کے زیادہ امکانات ہیں اس سے صوبوں اور وفاق کوفائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہفاٹا پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے اورہمیں کہیں نہ کہیں سے فاٹا کی تعمیر نوکرنا ہوگی۔ فاٹا وفاق او صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔