صحت مند زندگی کیلئے کتنا سونا چاہئے؟

صحت
ایک ہفتہ پہلے
Image

کبھی کبھار ایک کامیاب یا ناکام دن کے درمیان صرف ایک گھنٹے کا فرق ہوتا ہے۔ ایک اضافی گھنٹہ سونا، ورزش کرنا یا گھنٹہ بھر دل لگا کر کام کرنا آپ کی زندگی اور کام کرنے کے اندازمیں بہت بڑا فرق لا سکتا ہے۔

صبح سویرے اٹھ کی جِم جانے سے لے کر رات دیرتک دفتری کام کرنا یا بستر پر لیٹ کر قسط در قسط مسلسل اپنا پسندیدہ شو دیکھنا یہ سب کچھ تقریباً ہم سب ہی کر چکے ہیں۔

عموماً ہم مختلف طریقوں سے وقت پر سونے میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے سونے کے لیے وقت نکالنا پڑے گا۔ کیونکہ اگر آپ صرف ایک گھنٹہ مزید سونے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف آپ بہتر محسوس کریں گے بلکہ بہتر دِکھیں گے بھی اور کام بھی اچھی طرح کر سکیں گے لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اضافی گھنٹہ کی نیند محض شروعات ہے۔ نیند کے اصل فوائد مناسب اوقات مقرر کر کے اور ہرحال میں ان پر عمل کر کے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

نیند پوری کرنے کے کیا فوائد ہیں؟

ماہرین کے مطابق زیادہ سونے اور مقررکردہ وقت پر سونے کے مختلف اور بے پناہ فوائد ہیں۔ امریکا کی جان ہوپکن یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کم خوابی اور خواب آور ادویات کی ماہر ریچل سیلیس کا کہنا ہے:’آپ بہتر محسوس کریں گے، آپ زیادہ توانا ہوں گے، آپ کے خیالات بہتر ہوں گے، آپ اپنی ٹیم یا ادارے میں بہتر طرح سے فرائض سرانجام دے سکیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’آپ کا مزاج بہتر ہو گا اور آپ کے پاس کام کے دوران نئے آئیڈیا دینے اور اس کا حصہ بننے کی زیادہ وجوہات موجود ہوں گی۔ اس کے علاوہ اچھی نیند آپ کے ظاہری جسم پر بھی اثر ڈالتی ہے کیونکہ کم سونے کی وجہ سے آپ کے وزن میں اضافہ ہو گا، آپ تھکے ہوئے نظر آئیں گے اوراس کے ساتھ ساتھ آپ کی آنکھوں کے نیچے حلقے بھی پڑیں گے۔‘

2013 میں بی بی سی نے یونیورسٹی آف سرے کے سلیپ ریسرچ سینٹر کے تعاون سے ایک تجربہ کیا تھا جس سے پتہ چلا کہ اضافی گھنٹہ سونے والے افراد کا ذہن کمپیوٹر ٹیسٹ کے دوران زیادہ بہتر طرح سے کام کرتا ہے۔

گزشتہ سال امریکہ میں کی گئی تحقیق کے مطابق آٹھ گھنٹے سونے والے طالب علموں نے امتحانات میں بہتر کاردکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ یونیورسٹی آف میشی گن میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا کہ کم خوابی کی وجہ سے باورچی اور سرجری جیسے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کی یاداشت اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایک اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ لگاتار دو راتوں تک چھ گھنٹے سے کم سونا آپ کو اگلے چھ روز تک سست بناسکتا ہے۔

سویڈن میں 13 سال تک 40000 افراد کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس سال شائع کی گئی تحقیق کے مطابق زیادہ سونے والے لوگوں کے مقابلے میں کم سونے والے لوگوں میں اموات کی شرح زیادہ تھی، خاص طور پر ان لوگوں میں جن کی عمر 65 سال سے زیادہ تھی۔

آپ رات کو چھ گھنٹے سو کر یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ کو اتنی ہی نیند کی ضرورت ہے لیکن ماہرین کے مطابق ایسا سوچنا بہت بڑی غلطی ہے۔ پروفیسر سیلیس کہتی ہیں کہ بعض اوقات لوگوں میں پرانی بری عادات ان میں صحت سے جْڑے کئی مسائل کا سبب بنتی ہیں۔

کم سونے کی وجہ سے سامنے آنے والی بیشتر بیماریوں میں وزن میں اضافہ، آدھے سر کا درد، اور مسلسل تھکان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سلیسپ ایپنیا یعنی سوتے ہوئے سانس میں رکاوٹ آنا اور پروفیسر سیلیس کے بقول ’مائیکرو سلیپ‘ یعنی دن میں کچھ سکینڈوں کے لیے آنکھیں کھلی رہنے کے باوجود دماغ کا کام بند کر دینا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

نیند کے اوقات متعینکرنے کی اہمیت

اضافی گھنٹے کی نیند یا نیند کے متعین اوقات، زیادہ بہتر کیا ہے؟ پروفیسر سیلیس کے مطابق دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ مانٹریال کی میک گِل یونیورسٹی کی سلیپ لیبارٹری میں نفسیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر روئٹ گروبر کہتی کہ بہترین نیند کے لیے گھنٹوں کی کوئی خاص تعداد نہیں ہے لیکن ایک طریقہ موجود ہے جس کے استعمال سے ہر شخص اپنے لیے بہترین نیند کے لیے درکار گھنٹوں کا تعین کر سکتا ہے۔

اگر آپ چھٹیوں پر ہوں یا اگلے دن آپ کو کوئی خاص کام نہ ہو تو ایک مناسب وقت پر الارم لگائے بغیر سو جائیں اور اگلے دن فطری طور پر خود اٹھیں۔ آپ جتنے گھنٹے سوئے ہوں گے، ہر رات آپ کو اتنے ہی گھنٹوں کی نیند پوری کرنی ہو گی۔ بہترین نیند کے لیے آپ کو اتنے ہی گھنٹے درکار ہیں۔

پروفیسر گروبر کہتے ہیں کہ ’ایک بار جب آپ ان گھنٹوں کا تعین کر لیں تو ہر حال میں اس پر قائم رہیں۔ ہر چیز اس کے مطابق کریں تاکہ آپ وقت پر سو سکیں اور ان اوقات پر قائم رہیں جن پر آپ فطری طور پر جاگے تھے۔‘