اسٹاک مارکیٹ پر چھائے مندی کے بادل چھٹ نہ سکے

بزنس
2 مہینے پہلے
Image

 کراچی: بینکنگ، سیمنٹ اور فرٹیلائزر سیکٹر میں فروخت کے رحجان اور اقتصادی افق پر کوئی مثبت خبر نہ ہونے کے سبب منافع کے حصول پر رحجان غالب ہونے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی 41500 اور 41400پوائنٹس کی مزید 2 حدیں بھی گرگئیں۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کے سبب 63 اعشاریہ 43 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 38 ارب71 کروڑ1 لاکھ 93 ہزار 320روپے ڈوب گئے۔ کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر101پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن گذشتہ 13 سیشنز میں انڈیکس 6فیصد بڑھنے کے سبب پرافٹ ٹیکنگ کا ماحول پیدا ہوا جس سے مذکورہ تیزی ایک موقع پر217پوائنٹس کی مندی میں تبدیل ہوگئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر بعض حصص کی خریداری سرگرمی بڑھنے سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔

نتیجتاً کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100 انڈیکس 172اعشاریہ93 پوائنٹس کی کمی سے 41332اعشاریہ75ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 89 اعشاریہ48 پوائنٹس کی کمی سے19847 اعشاریہ92، کے ایم آئی30 انڈیکس 251اعشاریہ 34 پوائنٹس کی کمی سے 69374اعشاریہ67 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 57اعشاریہ74 پوائنٹس کی کمی سے 20010 اعشاریہ74 ہوگیا۔

کاروباری حجم بدھ کی نسبت 33فیصد کم رہا اور مجموعی طورپر 13کروڑ76 لاکھ 68ہزار 780حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کادائرہ کار 361 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 119کے بھاؤ میں اضافہ 229کے داموں میں کمی اور13کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیوکے بھاؤ30روپے بڑھ کر 2000روپے اور سروس انڈسٹری کے بھاؤ 19 روپے 90 پیسے بڑھ کر 829 روپے90پیسے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 200روپے کم ہو کر 8800روپے اور فلپس موریس پاکستان کے بھاؤ 127 روپے کم ہو کر 3100 روپے ہوگئے۔