لاہورچڑیا گھر انتظامیہ کا مخیر افراد اور اداروں کو جانور گود دینے کا فیصلہ

قومی
2 مہینے پہلے
Image

 لاہور: چڑیا گھرنے مختلف اقسام کے جانوروں اورپرندوں کی اڈاپشن کے حوالے سے نئی پالیسی مرتب کی ہے، جانوروں اورپرندوں سے محبت رکھنے والے بچے، شہری اورادارے اپنی پسندکے جانوراورپرندے مخصوص مدت کے لئےگودلے سکیں گے۔نئی پالیسی کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ کردیا جائیگا۔ 

پنجاب کے سب سے بڑے اورقدیم چڑیاگھرنے جانوروں اورپرندوں کی اڈاپشن کے حوالے فعال پالیسی تیارکرلی ہے۔ گوددیئے جانے والے جانوروں اور پرندوں کی مختلف درجہ بندیاں کی گئی ہیں۔ لاہور چڑیا گھرمیں 120 اقسام کے 1200 سے زائد جانوراور پرندے ہیں۔ کوئی بھی شہری اورادارہ اپنی پسند کے ایک یا ایک سے زائد جانوروں اورپرندوں کو گود لے سکتا ہے، اڈاپشن اسکیم کا مقصد شہریوں میں جانوروں اور پرندوں سے محبت ، ان کے رہن سہن اور خوراک بارے معلومات اور چڑیاگھر کے لئے فنڈز کا حصول ہے تاکہ ان فنڈزسے جنگلی حیات کی مزید افزائش اور تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔



لاہورچڑیا گھرمیں جانوروں اورپرندوں کی خوراک کا سالانہ خرچ ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد ہے۔ اڈاپشن اسکیم کے تحت خواہشمند شہری اور اداروں کو متعلقہ جانور اور پرندے کی خوراک اور میڈیسن کا خرچ اٹھانا ہوگا، پالیسی کے تحت کسی بھی جانور یا پرندے کو 3، 6 ماہ اورایک سال کی لئے گود لیا جاسکت اہے۔ اس عرصے کا تمام خرچہ گود لینے والے کو ادا کرنا ہوگا۔



شہری گود لیے جانے والے جانور کا نام تجویز کرسکیں گے، اس کی سالگرہ مناسکیں اور چڑیا گھر کے اوقات کے دوران کسی بھی وقت ٹکٹ کے بغیر اس جانور کے پاس جاسکیں گے۔ اس کے خوراک دیئے جانے کے اوقات میں گود لینے والے شخص کو موقع پر موجود رہنے کی اجازت ہوگی، لاہور چڑیا گھر انتظامیہ اس جانور کی خوراک اور عادات بارے لٹریچر اور معلومات فراہم کرے گی۔ اڈاپشن اسکیم کی معاون اورلاہورچڑیاگھرکی ایجوکیشن آفیسرکرن سلیم نے بتایا کہ چڑیا گھر میں ماضی میں مختلف اداروں نے کئی جانور گود لئے اور ان کے نام تجویز کئے، سفید ٹائیگر کے ایک جوڑے کو سیم اور موہنی کا نام دیا گیا، اسی طرح شیر کے ایک جوڑے کو راجہ اور رانی کا نام دیا گیا۔ شیر کے ہی ایک اورجوڑے کو رکی اور ہکی کا نام دیا گیا تھا۔ اب چڑیا گھر میں چیتے کے بچوں ، افریقن شیر کے بچوں ، براؤن بئیر، اولیوببون ، زیبرا، چنکارہ، ہاگ ڈئیر، فیلوڈئیر اور ریڈڈئیربھی شامل ہیں جن کو گود لیا جاسکے گا۔



ایکسپریس کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق گود لیے جانے والے جانوروں کی فیس لاکھوں روپے تک ہے۔ افریقن ہاتھی جوکہ فی الحال موجودنہیں ہے اس کی اڈاپشن فیس سالانہ 11 لاکھ50 ہزار روپے جبکہ 6 ماہ کا خرچہ 5 لاکھ 75 ہزار اور تین ماہ کا خرچہ 2 لاکھ 87 ہزار500 روپے ہے۔ اسی طرح بنگال ٹائیگر، سفید ٹائیگر اورافریقن شیر کا سالانہ خرچہ 6 لاکھ 7 ہزار روپے ، 6 ماہ کا خرچ 3 لاکھ 3 ہزار500 روپے اور 3 ماہ کا خرچ ایک لاکھ 51 ہزار 750 روپے ہوگا۔ پوما کا سالانہ خرچ 4 لاکھ 75 ہزار ، 6 ماہ کا خرچ 2 لاکھ 35 ہزار500 روپے اور 3 ماہ کا خرچ ایک لاکھ 18 750 روپے ہوگا۔



سفید گینڈے کا سالانہ خرچ 4 لاکھ 75 ہزار روپے، دریائی گھوڑے کا سالانہ خرچ 4 لاکھ 75 ہزار روپے۔ چیتے کا سالانہ خرچ 4 لاکھ 75 ہزار روپے۔ بنگال ٹائیگر، شیر اورچیتے کے بچوں کا سالانہ خرچ 2 لاکھ روپے۔ چمپینزی کا سالانہ خرچ ایک لاکھ 35 ہزار روپے۔ تمام اقسام کے بندروں کا فی کس سالانہ خرچ ایک لاکھ 35 ہزار روپے۔ کالے ریچھ کا خرچ ایک لاکھ 35 ہزار روپے، نیل گائے اورزیبرا کا خرچ ایک لاکھ 10 ہزار روپے، سانبھڑا ورریڈ ڈئیرکا خرچ 67 ہزار روپے، فیلوڈئیر، ہاگ ،ڈئیرسپاٹڈڈئیر، مفلون شیپ اورچنکارہ ہرن اورویلابائی کاخرچ 54 ہزار روپے، بھڑیئے اورریچھ کا خرچہ 27 ہزار روپے، شترمرغ ، ایموکاخرچہ 15 ہزار روپے، موراور بطخوں کا خرچ 7 ہزار ،ٹرکی ، میکاؤ طوطے ،کرین، گرے پیرٹ اوراسی طرزکے دیگرپرندوں کا خرچ 3 ہزار روپے ہوگا۔



شہری اپنی پسند کے جانور اورپرندے لاہورچڑیا گھرکی آفیشل ویب سائیٹ (جوکہ بہت جلد لانچ کی جارہی ہے) کے ذریعے بھی گود لینے کی درخواست بھیج سکیں گے جب کہ انڈرائیڈ موبائل ایپ کی مدد سے بھی لاہور چڑیا گھر کے جانوروں اور پرندوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔