اقوام متحدہ کی امن فوج میں پاکستانی خواتین اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ

Image

نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات سرانجام دینے والی خواتین اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے امن آپریشنز سے متعلق خصوصی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ امن دستوں میں خواتین فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 15 فیصد کردی ہے، پاکستانی فوجی دستے اقوام متحدہ کی قیام امن کوششوں میں سب سے آگے رہے ہیں اور خواتین اہلکار مختلف ممالک میں فوجی مبصرین اور اسٹاف آفیسرز کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

I told the UN’s special Committee on Peacekeeping Ops yesterday that Pakistan is proud to have achieved the goal of deploying 15 percent female staff officers in UN Peacekeeping Missions, thereby meeting the benchmark set by the UN pic.twitter.com/ry8U5XB9dm

— Maleeha Lodhi (@LodhiMaleeha) February 12, 2019



ملیحہ لودھی نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ سے ہمیشہ تعاون کیا ہے اور صرف 15 ماہ کی قلیل مدت میں خواتین کی تعداد صفر سے 15 فیصد تک کرتے ہوئے اقوام متحدہ مشنز میں خواتین کی شمولیت کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔

ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو امن مشنز کیلیے مختص بجٹ میں کمی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے قیام امن کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا، اقوام متحدہ کو امن مشنز میں فوجی دستے بھیجنے والے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ملیحہ لودھی نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو مزید موثر بنانے کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے اختیار پر عملدرآمد کے لئے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی نگرانی کے مشن کو فعال بنانےکی بھی ضرورت ہے۔