دنیا کی سب سے بڑی ’مکھی‘ کئی عشروں سے غائب رہنے کے بعد دوبارہ دریافت

سائنس
4 ہفتے پہلے

انڈو نيشيا: ماہرین کئی عشروں قبل کرہِ ارض کی سب سے بڑی ’سیاہ مکھی‘ کو ’انتہائی مطلوب‘ قراردیتے رہے تھے اور اب وہ انڈونیشیا میں دوبارہ دریافت ہوئی ہے۔

اسے سیاہ مکھی کا نام دیا گیا تھا جو دوبارہ انڈونیشیا کے جزیرے سے ملی ہے۔ بلیک بی کی جسامت انسانی انگوٹھے کے برابر ہے اور اس کے پروں کا گھیر 6 سینٹی میٹر تک ہے تاہم یہ دیکھنے میں بھی خونخوار لگتی ہے۔ تاہم افسوس یہ ہے کہ صرف ایک مکھی ہی مل سکی ہے۔

اس مکھی کی دریافت کا سہرا یونیورسٹی آف سڈنی کے سائمن رابسن اور ان کے ساتھیوں کے سر جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مکھی ہمارے پاس آئی اور اس نے ادھر ادھر دیکھا اور اس کے بعد اپنے چھتے کی جانب پرواز کرگئی۔ اس کا ایک اور نام میگاکائل پلوٹو بھی ہے اور اس ماہرِ حشرات رسل ویلس کے نام پر ویلنس جائنٹ بی بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کا سادہ نام بلیک بی ہے۔

1859 میں یہ مکھی انڈونیشیا کے جزیرے بیکن میں دریافت کی گئی تھی ۔ ویلس کے مطابق اس کے جبڑے ایک خونخوار بھنورے کی طرح تھے جس سے مکھی مزید خوفناک  دکھائی دیتی تھی۔ اس کے بعد اسے باقاعدہ مکھی کا درجہ دیا گیا ۔ پھر 1981 میں یہ دوبارہ انڈونیشیا میں ہی دکھائی دی اور اس کے بعد ماہرین اسے تلاش کرتے ہی رہے لیکن یہ دکھائی نہ دی۔ پھر اسے ماہرین نے ’25 انتہائی مطلوب جانوروں‘ کی فہرست میں شامل کیا اور اس کا کوئی پتا نہ چل سکا۔

اب ماہرین نے اسے دیمک کے گھر کے پاس دیکھا اور اسے فوراً پہچان لیا۔ مکھی دیکھنے کے بعد ماہرین خوشی سے چلانے لگے اور ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دی۔ اگلے مرحلے میں اس کے مزید اہلِ خانہ دریافت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔