ڈرون طیارے کے بعد اب ڈرون مکھی تیار

سائنس
2 ہفتے پہلے

فرانس: شاید آپ کو یاد ہوگا کہ اب سے چند سال قبل اڑنے والے روبوٹک پرندے کا بہت چرچا ہوا تھا اور اب اسی کے خالق نے میٹا فلائی نامی روبوٹ کیڑا بنایا ہے جو عین اڑنے والے کیڑے کی طرح پرواز کرتا ہے۔

فرانس کے ایرو ناٹیکل انجینئر ایڈوِن وان رایومبکے نے کیڑوں سے متاثر ہوکر پرواز کرنے والی بڑی مکھی تیار کی ہے جسے انہوں نے میٹا فلائی کا نام دیا ہے۔ کئی اقسام کے اڑنے والے کیڑوں کو دیکھتے ہوئے میٹا فلائی کو ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسی بنا پر اسے مکھیوں اور بھنوروں کی نقل کرنے والی مشین کہا جاسکتا ہے۔



میٹا فلائی کا وزن صرف 10 گرام، لمبائی ساڑھے 7 انچ اور اس کے پروں کا گھیر 11 انچ سے کچھ زیادہ ہے۔ مرکزی ڈھانچے میں لگی کورلیس موٹر سے اس کے پر پھڑپھڑاتے ہیں جو لیتھیئم پالیمر بیٹری سے چلتی ہے۔ پروں کی حرکت سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے اسے جذب کرنے کے لیے ایلومینیئم ہیٹ سِنک لگایا گیا ہے۔

میٹا فلائی کو دورانِ پرواز کنٹرول کرنے کے لیے اس میں دو چینل کا ریڈیو ریموٹ کنٹرول ہے۔ صرف 15 منٹ کے چارج پر اڑن کیڑا 8 منٹ کی پرواز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ الگ سے ایک پاور بینک بھی ہے جس سے ڈرون چارج کیا جاسکتا ہے تاہم یہ کیڑا زیادہ سے زیادہ 100 میٹر کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔



فی الحال یہ کِک اسٹارٹر منصوبہ ہے اور ایک مکمل سیٹ 78 ڈالر یا 10 ہزار روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ کمپنی نے عوام کے سوالات پر جواب دیا ہے کہ کیڑے ڈرون کا سر، دھڑ، ٹانگیں اور پر وغیرہ کاربن فائبر اور دیگر لچک دار پالیمر سے بنائے گئے ہیں۔ اسی بنا پر دیوار یا درخت سے ٹکرانے پر اسے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔