پاکستان میں کینسر کے علاج کے بڑے سرکاری مرکز کی ضرورت ہے: ڈاکٹر ادیب رضوی

صحت
2 مہینے پہلے
Image

—کراچی: ملک میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جان لیوا مرض کے علاج کے لیے بڑے اور مکمل سرکاری مرکز کا قیام ضروری ہے۔یہ بات ڈائریکٹر سندھ انسٹیٹیو ٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) ڈاکٹر ادیب رضوی نے تین روزہ بین الاقوامی کینسر کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہی۔یہ کانفرنس ایس آئی یو ٹی اور امریکن سوسائٹی آف کلینکل آنکولوجی (اے ایس سی او) باہمی اشتراک سے منعقد کی جار ہی ہےجس کے افتتاحی تقریب میں ملک کے ممتاز ماہر کینسرپروفیسر منظور زیدی مہمان خصوصی تھے۔اس کانفرنس میں کینسر کے باعث انسانی جسم کے مختلف اعضاء کے متاثر ہونے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ادیب رضوی نے ایس آئی یو ٹی کے فلسفہ ”مفت علاج عزت نفس کے ساتھ“پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایس آئی یوٹی میں مریضوں کے لئے دیگر اہم طبی خدمات کے ساتھ ساتھ کینسر کے شعبے میں بھی  مفت واعلیٰ تشخیص او ر علاج فراہم کررہا ہے۔ —کینسر کے اسباب کے حوالے سے ا ظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی، موٹاپا، کیمیائی وماحولیاتی آلودگی، انفیکشن اور غیر صحت مند غذا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو ٹی میں گزشتہ سال ستائیس ہزار کینسر کے مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اس موقع پر امریکا کے پیٹس برگ اسکول سے آئے ہوئے کینسر کے ماہر ڈاکٹر پرویز رحمان نے  بھی خطاب کرتے ہوئے پھیپھڑوں کے کینسر کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔انہوں نے کہا تمباکو نوشی اور تمباکو کا استعمال پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجہ ہے اور امریکا میں پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے والوں کی تعداد دل کے امراض سے مرنے والوں کی تعداد کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔