’’ اینٹی اسنیک وینم ‘‘ میں ساڑھے 3 ہزار زہریلے سانپ، زہر سے ویکسین کی تیاری

صحت
2 ہفتے پہلے
Image

اسلام آباد: سانپوں کا تصور آتے ہی ذہن میں اس کا خوف پھیل جاتا ہے ،ذہن یہی مانتا ہے کہ سانپوں کا زہرصرف موت کے منہ میں لے جاتا ہے لیکن ان سانپوں کا زہر زائل کرنے کیلیے بھی سانپ کا زہر ہی استعمال کیا جاتا ہے جسے اینٹی اسنیک وینم سیرم کہا جاتا ہے۔

کسی بھی شخص کو کوئی سانپ کاٹ جائے تو ایک گھنٹے کے اندر مریض کو مقامی سرکاری اسپتال پہنچایا جاتا ہے تاکہ مریض کو یہ سیرم دے کر اس کی جان بچائی جا سکے لیکن کچھ سانپ ایسے خطرناک ہوتے ہیں کہ وہ منٹوں میں انسان کو موت کی آغوش میں لے جاتے ہیں۔

قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں واقع واحد اینٹی اسنیک وینم ڈپارٹمنٹ پورے ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے کوشاں ہے۔ قومی ادارہ صحت کے سنیک روم میں تین سے ساڑھے 3 ہزار سانپ موجود ہوتے ہیں۔ جن کا زہر ان ہی کے ڈسنے کے علاج کے لیے نکالا جاتا ہے، یہاں سانپوں کو ان کے قدرتی درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگیڈئیر عامر اکرام نے ’’ایکسپریس‘‘ میڈیا گروپ کو بتایا کہ ان چاروں اقسام کے سانپوں کا زہر پولی ویلنٹ اینٹی سنیک وینم سیرم کہلاتی ہے جوان میں سے کسی بھی ایک سانپ کے کاٹے کا اثر زائل کر دیتی ہے۔پورے ملک میں یہ اپنی نوعیت کا واحد اینٹی وینم ڈیپارٹمنٹ کام کر رہاہے۔سالانہ تیس ہزار خوراکیں تیار کی جاتی ہیں جو ملکی ضرورت کاچند فیصد ہی پورا کر پاتی ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہاکہ چین کے ساتھ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس سے یہ اینٹی سنیک وینم بنانے میں مدد ملے گی ،چین کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ اگست میں شروع کر دیا جائے گا، پاکستان میں عام طور پر چار اقسام کے زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں یہاں پرسب سے خطرناک سانپ کریٹ ہے، کوبرا، رسل وائپراور ایکس موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سانپوں کا زہر نکالنے کا طریقہ کار انتہائی دلچسپ ہے ،ایک ایک سانپ کو گردن اور دم سے پکڑ کر ان کا منہ کھولا جاتا ہے اور ایک گلاس میں ان کے دانت گاڑھ کر اس کا زہر دبا کر نکال لیا جاتا ہے۔ سانپوں کا زہر نکالنے کے بعد ان سانپوں کو اگلے دن دودھ اور انڈوں کا شیک پلایا جاتا ہے۔

سانپوں کا زہر نکالنے پر مامور مقصود نے بتایا کہ یہ سانپ جنگلی اور زہریلے ہوتے ہیں ،کچھ لوگوں کو ٹھیکوں پر رکھا گیا ہے جن سے یہ سانپ لئے جاتے ہیں۔

ویٹنری ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر حسین علی کا کہنا ہے کہ کریٹ زیادہ خطرناک ہونے کے سبب ان کے لئے الگ طاقتور گھوڑوں کو رکھا گیا ہے،گھوڑے کالے چنے ،گاجریں ،مولیاں اور تازہ فصلیں کھاتے ہیں،گھوڑوں کی خوراک پر سالانہ ڈیڑھ کروڑ کے اخراجات آتے ہیں،جسے پورا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ گھوڑے زیادہ مہنگے ہونے کی وجہ سے بھیڑوں اور اونٹوں پر بھی اب تجربات شروع کیے جا رہے ہیں۔