افغان طالبان نے ملا عمر کے آخری ٹھکانے کی تصاویر جاری کردیں

بین الاقوامی
2 ہفتے پہلے
Image

کابل: افغان طالبان نے ملا عمر کے آخری خفیہ ٹھکانے کی تصاویر جاری کر دیں جہاں وہ اپنے انتقال تک تقریباً 7 سال مقیم رہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان نے اپنے امیر ملاعمر کے اس چھوٹے سے گھر کی تصاویر جاری کردی ہیں جس میں ملا عمر نے اپنی زندگی کے آخری 7 سال گزارے۔ افغانستان میں حکمرانی کرنے والے ملا عمر کا آخری ٹھکانہ ایک کمرے پر مشتمل ایک بوسیدہ گھر تھا۔



طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ملا عمر 2013 میں اپنے انتقال تک اسی خفیہ ٹھکانے میں مقیم رہے، ملا عمر روزانہ اس گھر کے گلاب کے پھولوں والے صحن کی دھوپ میں لیٹتے تھے۔ وہ کچھ عرصے علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ گھر کس علاقے میں قائم ہے اور نہ ہی طالبان نے اس بات کی وضاحت کی کہ ملا عمر اس گھر میں اکیلے رہتے تھے یا اہل خانہ کے ہمراہ مقیم تھے۔ طالبان ترجمان کی جانب سے جاری تصاویر نے افغان حکومت نے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کردیا۔ افغان حکومت کا کہنا تھا کہ ملا عمر پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں میں رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

Taliban spokesman just published these two photos of a room where he claims Mullah Omar spent his seven years & five months of his life and also died in, 2013. pic.twitter.com/lhKdJKe9tY

— Ehsanullah Amiri (@euamiri) March 11, 2019



طالبان کی جانب سے یہ تصاویر اس وقت جاری کی گئی ہیں جب امریکا کے زومیا سینٹر نامی تھنک ٹینک نے ڈچ خاتون صحافی بیٹے ڈیم کی تحقیقات پر مبنی کتاب کے اقتباسات جاری کیے تھے، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ رہنما ملا عمر ایک عرصے تک افغانستان میں امریکی فوجی اڈے کے انتہائی قریب رہائش پذیر رہے تھے۔