برطانوی پارلیمان نے دوسری مرتبہ یورپی یونین سے علیحدگی کا معاہدہ مسترد کردیا

بین الاقوامی
2 مہینے پہلے
Image

اراکین پارلیمان نے 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے بریگزٹ ڈیل کو مسترد کیا، برطانوی میڈیا۔ فوٹو: بشکریہ بی بی سیلندن: برطانوی پارلیمان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کی ڈیل کو مسترد کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے کو اراکین پارلیمان نے 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا جس کے بعد معاہدے کے لیے اپنائے گئے لائحہ عمل پر مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔اس سے قبل وزیراعظم کی مجوزہ بریگزٹ ڈیل کو پارلیمان کے سامنے جنوری میں پیش کیا گیا تھا اور اس میں اُسے 230 ووٹوں سے تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دوسری جانب وزیراعظم ٹریزامے کا کہنا ہے کہ اب اراکین پارلیمان اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے کہ کیا برطانیہ کو معاہدے کے بغیر ہی 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے اور اگر اس میں بھی ناکامی ہوئی تو پھر سوال یہ ہوگا کہ کیا بریگزیٹ کو التوا میں ڈال دیا جائے۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہوگیا برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس جلد ہوگا جس کے بعد سرکاری سطح پر اتفاق رائے کا اعلان کیا جائے گا اُدھر یورپی کمیشن کے صدر ژان کلاؤڈ جنکر نے برطانوی وزیراعظم ٹریزامے کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس بار انہیں ایوان سے معاہدے کو منظور کرانے میں شکست ہوئی تو انہیں تیسرا موقع نہیں دیا جائے گا۔یاد رہے کہ جون 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے جس کے بعد اُس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، کیوں کہ وہ بھی برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھے۔برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتداء میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔