بلدیہ عظمیٰ کے کڈنی اسپتال کا افتتاح، مریضوں کا مفت علاج و ڈائیلاسز

قومی
2 مہینے پہلے
Image

 کراچی:  گردوں کے عالمی دن پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے سرکاری شعبے کے دوسرے بڑے کڈنی اسپتال کراچی انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کا افتتاح کرکے کراچی کے شہریوں کو طبی سہولیات سے متعلق شاندار تحفہ دیا ہے جب کہ انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں روزانہ سیکڑوں مریضوں کا مفت علاج ہوگا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے گزشتہ روز میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن کے ہمراہ انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز اسپتال کا افتتاح کیا اور وارڈ میں داخل مریضوں سے ملاقات کی اسپتال میں روز75 مریضوں کے ڈائیلاسزہوسکیں گے۔

اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ اینڈ میڈیکل سروسز ڈاکٹر بیربل گینانی، پرنسپل کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود حیدر، انچارج کے آئی ایچ ڈی خرم دانیال نے خطاب کیا، واضح رہے کہ 2012 میں کڈنی سینٹر قائم ہوا تھا مگر 2017 تک اس میں علاج و معالجے کی سہولت شروع نہ ہوسکی، میئر کراچی وسیم اختر کی خصوصی دلچسپی کے باعث یہاں 4 نومبر 2017 کو پہلا ڈائیلاسزہوا اور مریضوں کو دوائیں فراہم کی گئیں۔

اس سے قبل 15 مشینوں کے ذریعے ایک شفٹ میں ڈائیلاسزہوتے تھے جبکہ انسٹیٹیوٹ کا درجہ دینے کے بعد 10 ڈائیلاسزمشینوں کے اضافے سے تعداد 25 ہوگئی جن کے ذریعے روزانہ 75 مریضوں کے ڈائیلاسز3 شفٹ میں کیے جاتے ہیں جبکہ آئندہ سال سے مزید 25 مشینوں کا اضافہ کرکے 4 شفٹ میں ڈائیلاسز کیے جائیں گے اس طرح 200 مریضوں کو روزانہ ڈائیلاسزکی سہولت حاصل ہوجائے گی۔ اسپتال میں ایمرجنسی ایکسرے اور الٹراساؤنڈ سمیت امراض گردہ کے علاج کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔

اسپتال  کے افتتاح کے موقع پر عالم یوم گردہ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین نے کہا کہ اس وقت دنیا میں 81 کروڑ افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، پاکستان میں گردوں کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور پاکستان8 ویں نمبر پر ہے جہاں 25 فیصد افراد مناسب علاج نہ ہونے کے باعث انتقال کرجاتے ہیں۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہماری حکومتیں صرف تعلیم، صحت اور سیکیورٹی مسائل کو حل کردیں تو عوام کے زیادہ تر مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے آج بلدیہ عظمیٰ کراچی نے طبی سہولتوں کے حوالے سے کارنامہ انجام دیا ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 14ویں اسپتال کا افتتاح ہورہا ہے، ہم عالمی یوم گردہ پر شہریوں کو سرکاری شعبے کے دوسرے بڑے کڈنی اسپتال کا تحفہ دے رہے ہیں۔

میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں اسپتالوں پر نہیں بلکہ عوام کی صحت پر توجہ دی جاتی ہے۔ اسپتال ایک فیصد لوگوں کے لیے ہوتے ہیں بلکہ 99 فیصد لوگوں کے لیے کھیلوں کے میدان، پارکس، صاف ستھری آب و ہوا کی ضرورت ہے۔

کڈنی اسپتال کے انچارج ڈاکٹر خرم دانیال نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں کڈنی کے ایک مریض کو90ہزار روپے ماہامہ خرچ کرنے پڑتے ہیں جو متوسط طبقے کے لیے ممکن نہیں جب کہ ہم مریضوں کو تمام سہولتیں مفت فراہم کررہے ہیں۔