مساجد پر حملہ دہشت گردی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم نیوزی لینڈ

کرائسسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے 2 مساجد پر حملے کو سوچی سمجھی سازش قرار دے دیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کے دوران مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، واقعے میں 40 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا اور اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔

“It is clear that this can now only be described as a terrorist attack,” says New Zealand Prime Minister of the shootings at two mosques in the country, which she says have left 40 dead and more than 20 injured. https://t.co/3j6nibpVT7 pic.twitter.com/AwgSkmkCF5

— CBS News (@CBSNews) March 15, 2019



وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ حملے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں نہیں تھے، زیر حراست افراد کی گاڑی میں بارودی مواد بھی نصب تھا۔

: نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ، 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازی شہید

جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ آج کا واقعہ ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہریوں سے درخواست ہے سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، سیکیورٹی ادارے مستعدی سے کام کررہے ہیں، اس واقعے کی تکلیف کو بھولنا ناممکن ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں 2 مساجد میں فائرنگ سے 40 نمازی شہید اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ مسجد میں موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم اس حملے میں بال بال بچ گئی۔ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کا نام برینٹن ٹیرنٹ اور عمر 28 سال ہے۔ یہ دہشت گرد آسٹریلوی شہری ہے جس کا تعلق سفید فام نسلی انتہا پسندوں سے ہے۔