تین روزہ پاکستان آٹو شو شروع، سوزوکی نے نئی آلٹو متعارف کرادی

بزنس
ایک ہفتہ پہلے
Image

 کراچی:  آٹو سیکٹر میں پاکستانی مہارت اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں پائے جانے والے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے تین روزہ پاکستان آٹو شو کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع ہوگیا جس میں سوزوکی کمپنی نے نئے ماڈل کی آلٹو متعارف کرادی۔

نمائش میں  کاریں، کمرشل گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور ٹرک بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ پرزہ جات بنانے والی 244 کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ نمائش کے پہلے روز پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرنے والی کورین کمپنی KIA موٹرز اور CHANGAN نے جدید سہولتوں سے آراستہ گاڑیاں پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیں۔



پاک سوزوکی کمپنی نے بھی جاپانی ٹیکنالوجی کا شاہکار 660 سی سی آلٹو کار کی رونمائی کی۔ رونمائی کی تقریب میں پاک سوزوکی کے منیجنگ ڈائریکٹر ماسا فومی ہارانو، ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ سیلز عامر شفیع اور اسٹاف جنرل منیجر مارکیٹنگ اینڈ سیلز فومی ہیرو ساکوری نے شرکت کی۔ جدید ڈیزائن، ایندھن کے کفایت بخش استعمال اور گنجائش کے حامل انٹریئر کی حامل نئی آلٹو شرکاء کی نگاہوں کر مرکز بنی رہی۔



افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان آٹو شو کے چیئرمین مشہود علی خان نے دیگر اہم افراد کے ساتھ نمائش کے اغراض و مقاصد بھی بیان کیے اور کہا کہ پاپام نے انڈسٹری کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، صنعت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں وہ اپنی مصنوعات کو اجاگر کررہے ہیں اور ملکی معیشت میں ترقی کے ساتھ لوگوں کو روزگار فراہم کررہے ہیں۔

انڈس موٹر کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر، کارپوریٹ اسٹریٹجی اینڈ ریگولیٹری افیئرز طارق احمد خان نے کہا کہ یہ صنعت جلد 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف حاصل کرلے گی، حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعت سے تعاون جاری رکھے اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے ان مسائل میں 10 فیصد ایف ای ڈی بھی شامل ہے جو 1700cc سے بڑی گاڑیوں پر عائد ہے۔



کیا لکی موٹرز، کے ایل ایم نے کہا کہ ہم لوکلائزیشن کی تائید کرتے ہیں اور ابتدائ میں مختلف گاڑیوں کی فراہمی کی وجہ سے ہمارا یہ عمل قدرے آہستہ ہوسکتا ہے، پاکستان میں نئی گاڑیوں کو متعارف کرانے اور ان کے لیے لوکلائزیشن میں حکومت کی طرف سے اقدامات درکار ہیں، پاکستان میں اسمبل کی جانے والی گاڑیوں پر 38 فیصد تک ٹیکس وغیرہ عائد ہیں اس لیے اس لیے حکومت کو سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی کو کم کرنا چاہیے۔



اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر، اٹلس ہنڈا لمیٹڈ، ثاقب ایچ شیرازی نے کہا کہ مختلف مشکلات کے باوجود صنعت ترقی کرے گی، آٹو انڈسٹری ملک میں روزگار فراہم کرنے والی بڑی صنعت ہے، چھوٹے سے گاؤں لیہ میں مکینک کو روزگار فراہم کرنے والی یہ صنعت شہروں تک پھیلی ہوئی ہے جس سے لاکھوں لوگ روزگار حاصل کررہے ہیں اور ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو مواقع فراہم کررہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔