والد کا نام ہٹا کر بنت پاکستان لکھوانا شرعاً درست نہیں: اسلامی نظریاتی کونسل

قومی
4 ہفتے پہلے
Image

اسلامی نظریاتی کونسل نے تطہیر فاطمہ کیس کے سلسلے میں اپنا فیصلہ وزارت قانون کو ارسال کردیا۔ فوٹو:فائلاسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے تطہیر فاطمہ کیس میں والد کا نام ہٹا کر ’بنت پاکستان‘ لکھوانا شرعی طور پر غلط قرار دے دیا ہے۔گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز کی سربراہی میں تطہیر فاطمہ کیس پر غور کیا گیا جس کے بعد کونسل نے اپنا فیصلہ وزارت قانون کو ارسال کردیا۔ ولدیت نہ ہونے پر 'بنت پاکستان' لکھنے کا قانون ہونا چاہیے: تطہیر فاطمہ اپنی دستاویزات میں ولدیت کے خانے سے اپنے والد کا نام ہٹانے کی درخواست دینے والی تطہیر فاطمہ کی جیونیوز کے مارننگ شو میں شرکت۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کے مطابق والدین کے بارے میں علم ہونے کے باوجود ان کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنا جائز نہیں جب کہ دستاویزات پر والد کا نام ہٹا کر 'بنت پاکستان' لکھوانا شرعاً درست نہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے وزارت قانون کو ارسال کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ تطہیر فاطمہ بنت پاکستان کیس میں اب ریاست کا مؤقف سننا ہے: سپریم کورٹ والدین کا نام معلوم نہ ہونے کی صورت میں نادرا فرضی نام کا اندراج کرتا ہے، ریاست درست نام کا اندراج نہیں کرنا چاہتی تواسے وجوہات بیان کرنی چاہیں، عدالتی معاون واضح رہے کہ 22 سالہ پاکستانی لڑکی تطہیر فاطمہ نے گزشتہ برس اپنے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات میں سے اپنے والد کا نام ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جس شخص نے کبھی اسے دیکھا نہیں اور نہ کفالت کی، وہ والد کیسے کہلا سکتا ہے؟تطہیر فاطمہ نے اپیل کی تھی کہ ان کا سرکاری دستاویزات میں حقیقی والد شاہد ایوب کا نام ہٹا کر اس کی جگہ بنت پاکستان لکھا جائے۔